بغداد،5ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)عراقی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ معروف شیعہ عالم دین اور علمی مرجع علی السیستانی نے ایرانی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ محمود الہاشمی الشاہرودی سے ملاقات کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے تہران نواز شیعہ اتحاد کے حلقوں میں اختلافات بڑھ جانے کے بعد الشاہرودی کو عراق کا دورہ کرنے اور عراقی ذمے داران سے ملاقات کے لیے بھیجا ہے۔بغداد میں ’’الغد پریس‘‘ویب سائٹ نے اعلی سطح کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ الشاہرودی نے اپنے نجف کے دورے میں علی السیستانی سے ملاقات کی درخواست کی تھی تاہم السیستانی نے ملاقات سے انکار کر دیا۔
ایرانی ذرائع یہ بتا چکے ہیں کہ خامنہ ای نے الشاہرودی سے عراق کے دورے کا مطالبہ کیا تھا تا کہ وہاں شیعہ جماعتوں کے درمیان باہمی اختلافات میں اضافے کے بعد انہیں پھر سے متحدہ کیا جا سکے۔ اس کا مقصد آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ایک اتحاد کے تحت حصہ لینے کی تیاری ہے۔عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے ایرانی مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ محمود الہاشمی الشاہرودی، مجمع کے سکریٹری جنرل محسن رضائی اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر الشاہرودی نے کہا کہ ڈاکٹر حیدر العبادی کی قیادت اور عراقی عوام کی وحدت کے تحت عراق نے داعش تنظیم کے خلاف جو پے در پے کامیابیاں حاصل کی ہیں انہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔الشاہرودی نے عراق کے نائب صدر اور ’’اسٹیٹ آف لاء کولیشن‘‘کے سربراہ نوری المالکی سے بھی ملاقات کی جو عراقی حکومت میں تہران کے دست راست شمار کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی قیادت اور تہران نواز بعد دیگر شیعہ اتحاد کے رہ نما بھی موجود تھے۔الشاہرودی نے مقتول شیعہ مذہبی رہ نما باقر الحکیم کے بیٹے عمار الحکیم سے بھی ملاقات کی اور زور دیا کہ سیاسی معاملات اور سیاست دانوں کے درمیان اختلافات کو عراقی عوام کے مورال پر منفی طور اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ عمار الحکیم نے 24جولائی کو عراقی سپریم کونسل سے علاحدہ ہو کر "الحکمہ" بلاک کے نام سے اپنا ایک گروپ تشکیل دے دیا۔ اس کے نتیجے میں عمار الحکیم کا جاں نشیں نامزد کرنے کے حوالے سے شیعہ اتحاد کے درمیان اختلافات نے جنم لے لیا اور ان میں بدستور اضافہ ہوتا چلا گیا۔
یاد رہے کہ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے 14اگست کو ایک فرمان کے ذریعے اپنی قریبی شخصیت محمود الہاشمی الشاہرودی کو ایرانی مجمع تشخیص مصلحت نظام کا سربراہ مقرر کر دیا تھا۔ یہ تقرر مجمع کے فوت ہو جانے والے سربراہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کی جگہ پانچ برس کے لیے کیا گیا۔عراق کے شہر نجف میں 1948ء میں پیدا ہونے والے الشاہرودی کو ایران اور عراق میں ایک اہم ترین شیعہ مرجع اور خامنہ ای کے منصب یعنی مرشد اعلی کے عہدے کی جاں نشینی کے لیے ایک نمایاں ترین امیدوار شمار کیا جاتا ہے۔
سال 1979میں شاہ ایران کی حکومت کو گرانے والے انقلابِ ایران کے بعد سے الشاہرودی ملک میں اعلی منصبوں پر فائز رہے جن میں 1999سے 2009تک ایرانی عدلیہ کے سربراہ کا منصب بھی شامل ہے۔ایران میں بعض حلقے الشاہرودی کی عراقی شہریت کے سبب مرشد اعلی کی جاں نشینی کے واسطے ان کی نامزدگی کے امکان کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔تاہم الشاہرودی کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عراق نے نجف شہر میں پیدائش کے باوجود الشاہرودی سے ان کی ایرانی شہریت کو نہیں چھینا۔